ایك شخص اپنی بیوی كو تین طلاقیں دیتا ہے اور عوت اپنے والدین كے گھر چلی گئ

 

سوال: ایك شخص اپنی بیوی كو تین طلاقیں دیتا ہے اور عوت اپنے والدین كے گھر چلی گئی۔ اس بات كو بارہ سال كا عرصہ گزر چكا ہے اب وہ عورت اور مرد دوبارہ نكاح كرنا چاہتے ہیں۔ كیا شرعاً انہیں نكاح كرنے كی اجازت ہے۔ (سائل: میاں كریم بخش كھیڑا ، فاروق كالونی سرگودھا )

جواب: تین طلاقوں كے بعد بیوی اس طلاق ہندہ كے ساتھ اس وقت تك نكاح نہیں كر  سكتی جب تك كہ نكاح كر كے كسی دوسرے شخص كے گھر نہ بسے۔ پھر وہ كسی وجہ سے اس كو طلاق دے پھر اس كی عدت گزرے۔ اگرچہ تین طلاقوں كے بعد ستر برس بھی گزر جائیں، دوسری جگہ نكاح كرنے اور اس كا گھر بسانے كے بغیر پہلے خاوند كے لیے حلال نہیں ۔


ایك شخص اپنی بہو كے ساتھ ناجائز تعلق ركھے ہوئے ہے۔ آیا بہو اس گھر میں رہ سكتی ہے


 سوال: كیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ كے بارے میں كہ ایك شخص اپنی بہو كے ساتھ ناجائز تعلق ركھے ہوئے ہے۔ آیا بہو اس گھر میں رہ سكتی ہے اور اپنے خاوند كے ساتھ بول چال قائم ركھ سكتی ہے یا نہیں۔

 (سائل: میاں كریم بخش كھیڑا ، فاروق كالونی سرگودھا)

جواب: اگر شہوت كے ساتھ باپ نے اپنی بہو كو ہاتھ لگایا تو وہ اس كے بیٹے پر حرام ہوگئی ہے۔ اب بیٹے كو چاہیے كہ اپنی اس بیوی كو طلاق دیدے۔ اور عدت كے بعد وہ عورت كسی دوسری جگہ نكاح كرلے۔ اگر طلاق نہ دے گا تب بھی وہ بیوی اس پر حرام ہے۔ اگر پھر بھی طلاق نہ دے اور اسے بدستور اپنے گھر بستائے ركھے تو دوسرے لوگوں كو اس سے مقاطعہ كرنا ضروری ہے

ایك شخص کو دوسری شادی كرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت ضروری ہے ؟

 

سوال: كیا فرماتے ہیں علماء كرام اس مسئلہ میں كہ ایك شخص دوسری شادی كرنا چاہتا ہے ۔ كیا اس كے لیے یہ ضروری امر ہے كہ وہ پہلے اپنی پہلی بیوی سے اس كی اجازت لے اور پھر دوسری شادی كرے۔ قرآن و حدیث كی روشنی میں اس مسئلہ كی وضاحت فرمائیں ۔ (سائل :معظم خان، ۴۲۳ اے سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا)

جواب: شریعتِ مطہرہ میں چار تك بیویاں كر سكتا ہے۔ بشرطیكہ تمام كے ساتھ برابر كا سلوك ركھے اور سب كے حقوق مساویانہ ادا كرتا رہے۔ اگر حقوق مساویانہ سب كے ادا نہ كرے اور سب كے ساتھ برابر سلوك نہ ركھ سكے تو پھر ایك ہی كرے۔ بیوی كی اجازت و عدم اجازت پر كوئی موقوف نہیں ۔ حقوق مساویانہ ادا كرنا فرض ہے۔

قَالَ اللہ تَعَالٰی :

فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً

(سورة النسآء:۴)

كیا عورتوں كا قبروں پر جانا جائز ہے یا نا جائز ہے ؟




فتاوی حسینیہ

از شیخ التفسیر حضرت علامہ سید محمد حسین نیلویؒ

سوال: كیا عورتوں كا قبروں پر جانا جائز ہے یا نا جائز ؟ نیز اگر كسی عورت كا بھائی بہن، ماں یا باپ فوت ہو جائے تو كیا اس صورت میں وہ عورت فاتحہ پڑھنے كے لیے قبرستان جا سكتی ہے؟ قرآن و حدیث كی روشنی میں وضاحت فرما دیجیے۔

(السائل: معظم خان ۴۲۳ اے سٹلائیٹ ٹاؤن سرگودھا)

جواب: حضرت امامنا فی الدین ابو ہریرہؓ نے فرمایا:

اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ﷺ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ  

یعنی حضرت رسول اللہ ﷺ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں كی زیارت كے لیے جاتی ہیں ۔ علماء نے اس كی حكمت بیان فرمائی ہے كہ عورتوں میں صبر كم ہوتا ہے اور جزع و فزع بہت كرتی ہیںاور زمانۂ حال میں تو عورتوں كو بالكل ہی نہ جانا چاہیے كیونكہ آج سے چودہ صدیاں پہلے آپ ﷺ نے منع فرمایا تھا جب كہ عورتوں میں دین كا شوق تھا۔ اور اب تو حالات بہت سنگین ہوگئے ہیں اس لیے عورتوں كو قبروں كی زیارت سے پُرزور انداز میں منع كرنا چاہیے۔