كیا عورتوں كا قبروں پر جانا جائز ہے یا نا جائز ہے ؟




فتاوی حسینیہ

از شیخ التفسیر حضرت علامہ سید محمد حسین نیلویؒ

سوال: كیا عورتوں كا قبروں پر جانا جائز ہے یا نا جائز ؟ نیز اگر كسی عورت كا بھائی بہن، ماں یا باپ فوت ہو جائے تو كیا اس صورت میں وہ عورت فاتحہ پڑھنے كے لیے قبرستان جا سكتی ہے؟ قرآن و حدیث كی روشنی میں وضاحت فرما دیجیے۔

(السائل: معظم خان ۴۲۳ اے سٹلائیٹ ٹاؤن سرگودھا)

جواب: حضرت امامنا فی الدین ابو ہریرہؓ نے فرمایا:

اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ﷺ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُوْرِ  

یعنی حضرت رسول اللہ ﷺ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں كی زیارت كے لیے جاتی ہیں ۔ علماء نے اس كی حكمت بیان فرمائی ہے كہ عورتوں میں صبر كم ہوتا ہے اور جزع و فزع بہت كرتی ہیںاور زمانۂ حال میں تو عورتوں كو بالكل ہی نہ جانا چاہیے كیونكہ آج سے چودہ صدیاں پہلے آپ ﷺ نے منع فرمایا تھا جب كہ عورتوں میں دین كا شوق تھا۔ اور اب تو حالات بہت سنگین ہوگئے ہیں اس لیے عورتوں كو قبروں كی زیارت سے پُرزور انداز میں منع كرنا چاہیے۔