ایك شخص کو دوسری شادی كرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت ضروری ہے ؟

 

سوال: كیا فرماتے ہیں علماء كرام اس مسئلہ میں كہ ایك شخص دوسری شادی كرنا چاہتا ہے ۔ كیا اس كے لیے یہ ضروری امر ہے كہ وہ پہلے اپنی پہلی بیوی سے اس كی اجازت لے اور پھر دوسری شادی كرے۔ قرآن و حدیث كی روشنی میں اس مسئلہ كی وضاحت فرمائیں ۔ (سائل :معظم خان، ۴۲۳ اے سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا)

جواب: شریعتِ مطہرہ میں چار تك بیویاں كر سكتا ہے۔ بشرطیكہ تمام كے ساتھ برابر كا سلوك ركھے اور سب كے حقوق مساویانہ ادا كرتا رہے۔ اگر حقوق مساویانہ سب كے ادا نہ كرے اور سب كے ساتھ برابر سلوك نہ ركھ سكے تو پھر ایك ہی كرے۔ بیوی كی اجازت و عدم اجازت پر كوئی موقوف نہیں ۔ حقوق مساویانہ ادا كرنا فرض ہے۔

قَالَ اللہ تَعَالٰی :

فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً

(سورة النسآء:۴)